جمعرات, مارچ 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

بھارت کی قسطوں کی آئینی آزادی

by Md Yasin Jahazi
جنوری 26, 2026
in مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
28
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بھارت کی قسطوں کی آئینی آزادی

محمد یاسین جہازی قاسمی 9891737350

آئینی آزادی کی پہلی قسط

26/جنوری بھارت میں دستور ہند کے نفاذ العمل کی تاریخ ہونے کی وجہ سے بطور جشن جمہوریہ منایا جاتا ہے۔ انگریزوں کی طرف سے ہمیں قسطوں میں آئینی آزادی دی گئی ہے۔ اس کی پہلی قسط اس وقت دی گئی جب کہ ہندستان میں گورنر جنرل کی کونسل سب سے اول 1854ء میں بنائی گئی؛ مگر اس میں کوئی غیر سرکاری ممبر نہ تھا۔ غالباً ہنگامہ 1857ء کے اثرات سے 1861ء میں آئینی اصلاحات کا پہلا قانون پاس ہوا، جس کی رو سے تین ہندستانی بذریعہ نام زدگی مقرر کیے گئے، ان میں سے ایک ممبر گوالیار کے مشہور وزیر سر ڈنکر راؤ تھے ۔(مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/254)

آئینی اصلاحات کی دوسری قسط

جناب سرسید احمد صاحب، ان کے متعبین اور انجمن محبان وطن (The United Indian Patriotic Association )کی طرف سے چلائی جارہی انگریزوں کی وفاداری کی تحریک جیسے رجعت پسند گروہ کی مخالفتوں کے باوجود کانگریس کے اثرات بڑھ رہے تھے۔ چنانچہ مسٹر بیک کی مرتب کردہ عرض داشت کے باوجو د ہندستانی کو نسلوں کا قانون 1892ء میں پاس ہوا، جس کی رو سے میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈوں ، یونی ورسٹیوں اور تجارتی جماعتوں سے صوبہ کی کونسلوں میں ممبر لیے جانے لگے۔ ممبروں کو کونسلوں میں سوالات کرنے اور بجٹ پر بحث کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ اگرچہ ضمنی سوالات کرنے اور رزولیوشن پیش کرنے کے اختیارات نہ دیے گئے تھے۔ اصلاحات کی یہ دوسری قسط اکتیس سال کے بعد دی گئی۔(مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/300

(آئینی اصلاحات کی تیسری قسط

بعد ازاں ہندستانی کو نسلوں کا قانون اصلاحات کی تیسری قسط 1909 ء میں پاس ہوا۔اصلاحات کی یہ تیسری قسط سترہ سال بعد دی گئی۔ اس کی رو سے جدید کو نسلوں میں پہلی بار ہندستانیوں کا تقرر بذریعہ انتخاب منظور کیا گیا۔ اسی قانون کی رو سے مسلمانوں کے جدا گانہ انتخاب کا مسئلہ طے ہوا، جس کی مخالفت لارڈ مارلے وزیر ہند نے کی تھی اور یہ تجویز کیا تھا کہ مسلمانوں کو معین نشستوں کے ساتھ مخلوط انتخاب دیا جائے؛ مگر گورنمنٹ ہند نے جدا گانہ انتخاب کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اسی کو پاس کرا دیا ۔ اور اس طرح ہندومسلمانوں میں مستقل جدائی پیدا کر کے عرصہ دراز کے لیے ملک میں اختلاف اور انتشار پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔اس قانون کی رو سے مرکزی اور صوبہ جاتی کونسلوں کے ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اور انھیں مزید سوالات کرنے اور رزو لیوشن پیش کرنے کے اختیارات دیے گئے ۔ صوبوں کی کونسلوں میں غیر سرکاری ممبروں کی اکثریت کر دی گئی۔ چند سال بعد سکریٹری آف اسٹیٹ کی کونسل میں ایک ہندستانی ممبر مقرر کیا گیا۔ نیز وائسرائے کی ایگزکٹو کونسل میں ایک ہندستانی ممبر مقرر کیاگیا ۔( مسلمانوں کا روشن مستقبل،ص/369-370)ان اصلاحات کی رو سے قانون ساز کونسلوں کے ارکان کی تعداد میں قدرے اضافہ کردیا گیا۔ گورنر جنرل کی کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھادی گئی۔ لیکن کونسلوں میں سرکاری اکثریت برقرار رکھی گئی مرکزی قانون ساز کونسل میں سرکاری ارکان کی تعداد سینتیس(37) اور غیر سرکاری ارکان کی تعداد تئیس (23) مقرر کی کئی۔سینتیس سرکاری ارکان میں سے اٹھائیس(28) کو گورنرنے نام زد کرنا تھا اور باقی بلحاظ عہدہ مقرر کیے جانے تھے۔ تئیس غیر سرکاری ارکان میں سے پانچ کو گورنر جنرل نے منتخب کرنا تھا اور باقی ارکان کاانتخاب ہونا قرار پایا۔ یہ تھا؛ حکومت ہند کا قانون مجریہ 1009ء۔(کاروان احرار ،جلد دوم، ص/511)

آئینی اصلاحات کی چوتھی

قسط1919 ء ہی وہ سال تھا، جس میں آئینی اصلاحات کی چو تھی قسط گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کی شکل میں شائع ہوئی، جو مانٹیگو چیمس فورڈ رپورٹ سے بھی زیادہ مایوس کن تھی ۔ اس سے ناراض ہوکر لبرل جماعت کے نمائندے مسٹر سر بندرو ناتھ بنرجی کی سرکردگی میں اور ہوم رول لیگ کی نمائندہ مسٹر اینی بسنٹ کی سرکردگی میں انگلستان گئے اور وہاں مسٹر مانٹیگو کی امداد سے ایکٹ مذکور میں اپنے حسب منشا ترمیمات کرائیں اور مطمئن ہو کر ہندستان واپس آگئے؛مگر کانگریس کے لوگ اُس سے بدستور ناراض رہے۔ اسی سے لبرل فیڈریشن اور کانگریس میں مستقل طور پر جدائی ہو گئی ۔ آئینی اصلاحات کی یہ قسط دس سال کے وقفہ سے ملی اور اُس کی رو سے صوبوں کی حکومت ہندستانی وزیروں کے سپرد کی گئی اگر چہ مالیات کا صیغہ گورنر کے ہاتھ میں بدستور رہا۔ ممبروں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی گئی ؛تاہم جو کچھ ملا وہ ہندستانیوں کی توقعات سے کم تھا ۔( مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/398-399)

1909ء کی اصلاحات سے ہندستان کے عوام مطمئن نہیں تھے،لہذا پہلی جنگ عظیم کےبعد برطانیہ نے ہندستان پر ایک اور احسان کیا اور مرکزی اسمبلی میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کی جگہ دو ایوانی مقننہ قائم کی گی، ایوان بالا کا نام کونسل آف اسٹیٹ اور ایوان زیریں کا نام سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی رکھا گیا۔کو نسل آف اسٹیٹ ایک سو پینتالیں (145)ارکان پرمشتمل تھی۔ اس میں ایک سو تین(103) ارکان منتخب کیے جاتے تھے۔ باقی بیالیس(42) ارکان گورنر جزل نام زدکرتا تھا ، ایک سوتین ارکان کی تقسیم اس طرح تھی: عمومی حلقہ ہائے انتخاب سے اکیاون(51)۔مسلمان بیس(20)۔سکھ دو(2)۔ خاص حلقہ ہائے انتخاب سے :بیس (20)ارکان ، ان کی تقسیم اس طرح تھی: زمین دار:سات (7)۔یورپین:نو(9) ۔ ایوان تجارت: چار(4)۔ نام زد ارکان میں پچیس(25) سرکاری اور باقی غیر سرکاری۔(کاروان احرار ،جلد دوم، ص/511)

آئینی اصلاحات کی پانچویں قسط

ظاہر ہے کہ انگریز کا یہ قانون بھی ہندستان کے لیے مفید نہیں تھا۔ چنانچہ /13 اپریل 1919ء کا حادثہ جلیا نوالہ باغ بھی اسی بے چینی کا نتیجہ تھا، تحریک خلافت بھی یہیں سے آگے بڑھی اور ترک موالات کے ہنگامے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔آخر برطانیہ نے سرجان سائمن کی صدارت میں ایک کمیشن قائم کیا، جو 1928ء میں ہندستان آیا ۔ اس کمیشن میں ہندستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا، جس میں بطور ناراضگی جمعیت علمائے ہند، کانگریس اور مسلم لیگ نے اس کمیشن کا بائیکاٹ کیا ۔ اس کے باوجود کمیشن نے ہندستان کا دورہ کیا اور اپنی رپورٹ برطانوی پاریمنٹ کے سامنے پیش کردی۔مارچ 1933ء میں حکومت نے ایک قرطاس ابیض شائع کیا، جس پر ہندستان کے سیاسی رہنماؤں نے تنقید کی۔ جمعیت علمائے ہند نے بھی مکمل آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی واضح ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا۔ برطانوی حکومت نے ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 5 /فروری 1935ء کو ایک مسودہ بل تیار کر کے پارلیمنٹ میں پیش کیا، جسے 2/ اگست 1935ء کو منظور کرلیا گیا۔ یہی وہ قانون ہے، جوایکٹ 1935 ء کو لایا اور یکم اپریل 1937ء کو اس کا نفاذ ہندستان میں ہوگیا۔(کاروان احرار ،جلد دوم، ص/511۔ مصنف: جاں باز مرزا)اور آخر کار ایکٹ 1935ء کی شکل میں آئینی اصلاحات کی پانچویں قسط ظہور پذیر ہوئی۔ (مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/456)

اس ایکٹ کے مطابق کونسل آف اسٹیٹ کے ممبروں کی تعداد بڑھا کر 260 کردیا گیا، جن میں سے 156 ممبروں کا انتخاب برطانوی حکومت ہند کے زیر تصرف علاقوں سے اور 104 ممبران دیگرریاستوں سے چنے جاتے تھے۔ اس ایکٹ کا ایک فائدہ یہ تھا کہ اس میں حکومتی اختیارات کو مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا، گرچہ گورنر جنرلوں کو حاصل بے پناہ اختیارات کی وجہ سے اس کی افادیت نہ کے برابر تھی۔ چوں کہ اس میں بھی مکمل آزادی کا مطالبہ نہ منظورکیا گیاتھا، اس لیےجمعیت علمائےہند نے اسے مسترد کردیا اور کامل آزادی کے نصب العین پر قائم رہی؛تاہم ایکٹ سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کے ساتھ شراکت کی اور مسلم لیگ کواکثریت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آئینی اصلاحات کی آخری قسط اور بھارتیوں کا اپنا دستور

پھر 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن بھارت کا آخری وائسرائے بن کر آیا۔ پہلے انھوں نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور کرنے کے لیے کہا؛ لیکن جب مسلم لیگ، جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے درمیان متحدہ قومیت، اکھنڈ بھارت اور مطالبہ پاکستان کے مختلف و متضاد نظریات نے ماؤنٹ بیٹن کو کوئی متفقہ فیصلہ کرنے سے قاصر رکھا، تو بیٹن نے تقسیم ہند کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے ، 14/اگست1947 کو پاکستان اور 15/اگست 1947 کو بھارت کو مکمل طور پر آزادی دینے کا فیصلہ کردیا. جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی آزادی کا خیر مقدم کیا، لیکن تقسیم ہند کے زخموں کو کبھی بھلا نہ سکی.۔بعد ازاں بھارتیوں نے اپنا دستور مرتب کیا، جس کی تکمیل کے بعد 26/جنوری 1950 سے اسے نافذ العمل کردیا، اور اسی تاریخ سے ہم اس تاریخ کو جشن جمہوریہ مناتے ہیں۔

"بہرکیف! ملک کی آزادی کے بعد کچھ دنوں تک 1935ء میں انگریزوں کے بنائے آئین کے مطابق ہی ملک کا نظام چلتا رہا ، لیکن جلد ہی اس وقت کے ہمارے عظیم قومی رہنما ؤں اور لیڈران نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر بابا صاحب کی قیادت میں ایک قانون ساز کمیٹی بنائی ، 9 /دسمبر 1947ء سے کام کا آغاز ہوا ، دستور ساز اسمبلی نے دو سال 11 مہینے 18 دن میں آئین مرتب کیا ، 26 /نومبر 1949ء دستور ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجیندر پرساد کو آئین کی کاپی دستیاب کرائی گئی ، 308 ممبروں نے 24/ جنوری 1950ء کو آئین کی دستاویزات پر دستخط کیے ، 26/ جنوری 1950ء کو ملکی دستور کا نفاذ عمل میں آیا ، اس طرح ہمارا ملک 26/ جنوری 1950ء کو صبح 10 بج کر 18 منٹ پر ایک جمہوری ، سیکولر (Secular ) اور ڈیموکریٹک ( Democratic ) اسٹیٹ بنا ، دستور ساز کمیٹی میں دیگر افراد کے علاوہ مسلمانوں نے بھی حصہ لیا ، ان میں مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ، بیرسٹر آصف علی خان ، عبدالغفار خان ، محمد سعد اللہ ، عبدالرحیم چوہدری ، بیگم اعزاز رسول اور مولانا حسرت موہانی بھی شامل تھے۔

اگر جمہوریت واقعی میں بچی ہوئی ہے تو راقم کی طرف سے جشن جمہوریہ کی مبارک باد۔

Tags: محمد یاسین جہازی
Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
باب اول در بیان انجام مداہنت

مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

‬ڈاکٹر سید احمد قادری : افسانے سے صحافت تک

‬ڈاکٹر سید احمد قادری : افسانے سے صحافت تک

6 مہینے ago
جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: نواں سال:1927ء

2 مہینے ago

مقبول

  • ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سرور کائنات ﷺ کی عید

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.