چھٹی قسط
محمد یاسین جہازی
حجاز کی حکومت، سلطان ابن سعود اور جمعیت علمائے ہند
8/اکتوبر 1925 (8/ربیع الآخر 1344ھ) کو سلطان عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک اہم مکتوب ارسال کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد حجاز پر شخصی حکومت قائم کرنا نہیں، بلکہ شریفِ مکہ کی حکومت سے حرمین شریفین کو آزاد کرانا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حجاز ان کے پاس ایک امانت ہے، جسے اہلِ حجاز کے منتخب حکمران کے سپرد کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ حجاز کے حکمران کا انتخاب عالمِ اسلام کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے ہو، حکومت کی بنیاد اسلامی شریعت پر قائم ہو، حجاز داخلی طور پر خودمختار رہے، کسی ملک کے ساتھ سیاسی معاہدہ نہ کرے، غیر مسلم ریاستوں سے معاشی معاہدات نہ کرے، اور حجاز کی آئینی، مالی، عدالتی اور انتظامی تشکیل عالمِ اسلام کے نمائندوں کی مشاورت سے ہو۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے جمعیت خلافت، جماعت اہلِ حدیث اور جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں کو بھی آئندہ مومر اسلامی میں شریک کرنے کی دعوت دی۔اس دوران حجاز میں آل سعود کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ 5/ستمبر 1924 کو طائف فتح ہوا، 3/اکتوبر 1924 کو شریف حسین مکہ چھوڑ کر جدہ چلے گئے، 13/اکتوبر 1924 کو عبدالعزیز کی افواج مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئیں، اور بالآخر 24/دسمبر 1925ئ کو جدہ بھی بغیر جنگ کے ان کے قبضہ میں آگیا۔ اسی روز سلطان عبدالعزیز نے حضرت مولانا احمد سعیدؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو تار کے ذریعے جدہ کی پرامن فتح کی اطلاع دی۔ان فتوحات پر 30/دسمبر 1925 کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے سلطان ابن سعود کو مبارک باد کا تار بھیجا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حجاز مقدس کو وحدتِ اسلامیہ کا حقیقی مرکز بنائے۔ اس کے جواب میں یکم جنوری 1926 کو سلطان عبدالعزیز نے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے اطلاع دی کہ بلادِ مقدسہ میں امن قائم ہے، راستے محفوظ اور کھلے ہوئے ہیں، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین، عباد اور بلاد کی بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔10 جنوری 1926 کو مدینہ منورہ کے باشندگان سید احمد فیض آبادی اور سید محمود احمد فیض آبادی نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک لاسلکی پیغام بھیجا، جس میں بتایا کہ سلطان عبدالعزیز کے اقتدار کے بعد پورے حجاز میں امن قائم ہوگیا ہے، شریعتِ مطہرہ نافذ ہے، سفر محفوظ ہوگیا ہے، آثارِ مقدسہ کا احترام برقرار ہے اور پہلے پھیلائی گئی بہت سی افواہیں حقیقت کے خلاف تھیں۔ادھر قاضی محمد عدیل عباسی کے مطابق، 1924 میں عبدالعزیز نے طائف اور مکہ فتح کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کا مقصد مکہ پر شخصی قبضہ نہیں بلکہ شریعت کا نفاذ اور عالمِ اسلام کی مشاورت سے حجاز کا نظم قائم کرنا ہے۔ تاہم 10/جنوری 1926ئ کو قاہرہ سے موصولہ تار کے ذریعے معلوم ہوا کہ انہوں نے "ملک الحجاز و سلطان نجد” ہونے کا اعلان کردیا، حالاں کہ اس سے قبل 24/اکتوبر 1924 کو انہوں نے خلافت کمیٹی کو یقین دلایا تھا کہ حجاز کا آخری فیصلہ عالمِ اسلام کی مرضی سے ہوگا۔اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا چار روزہ اجلاس 18 تا 21/جنوری 1926 کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلطان ابن سعود کے دعوت نامے، قاہرہ سے 8/جنوری 1926 اور آکسفورڈ سے 12/جنوری 1926 کو موصولہ تاروں پر غور کیا گیا، جن میں ان کے اعلانِ ملوکیت اور اہلِ حجاز کی بیعت کا ذکر تھا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ سلطان کو ایک وضاحتی تار بھیجا جائے، جس میں 8/ربیع الآخر 1344ھ (26/اکتوبر 1925) کے مکتوب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے موتمر اسلامی کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا جائے اور اعلانِ ملوکیت کی وجوہات دریافت کی جائیں۔ اسی اجلاس میں 30/دسمبر 1925 کو بھیجی گئی مبارک باد کی توثیق بھی کی گئی، جبکہ موتمر اسلامی کے لیے نمائندوں کے انتخاب کا فیصلہ آئندہ اجلاس تک ملتوی کردیا گیا۔21جنوری 1926 کو سلطان عبدالعزیز نے اس تار کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ ذاتی طور پر اعلانِ ملوکیت موخر کرنا چاہتے تھے، مگر اہلِ حجاز نے متفقہ طور پر ان کی بیعت پر اصرار کیا، جبکہ اہلِ نجد نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ اگر انہوں نے بیعت قبول نہ کی تو حجاز کے امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ اس مجبوری کے باعث انہوں نے بیعت قبول کی، تاہم یہ یقین دلایا کہ وہ حجاز میں مسلمانوں کے تمام مشروع حقوق کی حفاظت کے اپنے سابق وعدے پر قائم رہیں گے۔بعد ازاں 18/فروری 1926 کو سلطان ابن سعود کا ایک اور مکتوب موصول ہوا، جس میں انہوں نے بلادِ مقدسہ کی تطہیر پر اللہ کا شکر ادا کیا، حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی دینی خدمات کی تعریف کی اور اسلام و مسلمانوں کی فلاح کے لیے باہمی تعاون کی امید ظاہر کی۔مجلس عاملہ (18 تا 21/جنوری 1926) نے مدینہ منورہ کے محتاج باشندوں کی امداد کے لیے "مدینہ فنڈ” قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جس کا اعلان بعد میں 2/فروری 1926 کے سہ روزہ "الجمعیۃ” میں کیا گیا۔ 2/مئی 1926 تک اس فنڈ میں ہزاروں روپے اور چاول جمع ہوچکے تھے، جبکہ 4/اپریل 1926 کی رپورٹ کے مطابق سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون کے ذریعے جیرانِ رسول ﷺ کی امداد کے لیے مجموعی طور پر 2,06,012 روپے وصول ہوچکے تھے، جس کی تفصیل 22/اپریل 1926 کو شائع ہوئی۔حجازی وفد کی رپورٹ کے بعد جمعیت علمائے ہند کا ساتواں اجلاس عام 11 تا 14/مارچ 1926ئ کو منعقد ہوا، جس میں حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اب حجاز میں امن قائم ہے، راستے محفوظ ہیں، قبائل مطیع ہیں اور سلطان عبدالعزیز کی صلاحیتوں کی عام شہادت مل رہی ہے۔ انہوں نے آثارِ مقدسہ کی شرعی بنیادوں پر حفاظت، موتمر اسلامی کے ذریعے ان کی نگرانی، اور اس موضوع پر قرآن، حدیث اور آثارِ سلف کی روشنی میں ایک عربی یادداشت حکومتِ حجاز کو پیش کرنے کی سفارش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ابن سعود نے "ملک” ہونے کا اعلان کرنے میں جلدی کی، کیونکہ حجاز میں وراثتی بادشاہت کے بجائے انتخابی طرزِ حکومت زیادہ موزوں ہے، تاہم انہوں نے اس بات کو باعثِ مسرت قرار دیا کہ سلطان نے حجاز میں عالمِ اسلام کے حقوق کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو اس کے نظم و نسق میں شریک ہونے کا موقع دیا۔علامہ ندویؒ نے حجاز کے سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی مسائل، یورپی طاقتوں کے ممکنہ عزائم، غیر ملکی سرمایہ کاری کے خطرات، مسلم سفیروں کی تقرری، اور عرب اتحاد کی ضرورت پر بھی مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں خصوصاً برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ تعلقات میں انتہائی احتیاط کی نصیحت کی۔اسی اجلاس (11 تا 14/مارچ 1926) میں جمعیت علمائے ہند نے حجازی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں یہ قرارداد بھی منظور کی کہ چونکہ حجاز میں امن بحال ہوچکا ہے، اس لیے اہلِ استطاعت مسلمان بلا تردد حج کے لیے جائیں، تاکہ فریضہ حج کی ادائیگی کے ساتھ جیرانِ بیت اللہ اور جیرانِ رسول اللہ ﷺ کی معاشی امداد بھی ہوسکے، البتہ غیر مستطیع افراد سفرِ حج سے گریز کریں تاکہ خود بھی مشقت سے بچیں اور اہلِ حجاز کے لیے بھی مشکلات پیدا نہ ہوں۔
(جاری)@all





















