منگل, اگست 11, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

مکتب کی تعلیم کے بغیر نماز میں قلب (دل) کے بجائے کلب (کتا) ہوسکتا ہے

by Admin
اگست 10, 2026
in اسلامیات
0
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

11/جولائی 2025 کو مولانا حذیفہ صاحب کا بیان

کورونا میں، دسمبر میں، مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد وہ مکمل پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ میں نے ان سے پوچھا بھائی یہ اچانک تبدیلی کیسے آئی؟ کہنے لگے کہ قرآن ملے گا، مسجد کی شہادت کا انتقام نہیں ہوتا نا وہ دیکھ کر۔ اب کیا کر سکتے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اپنے آپ کو نمازی تو بنا سکتا ہوں۔ میں نماز پڑھنا شروع کر دوں، یہ تو کر سکتا ہوں؟ بس، میں نے شروع کر دیا۔ایک دوست تھے، سگریٹ بہت پیتے تھے۔ رات گئے، کہیں شور ایسے سگریٹ ختم ہوگئی۔ ان کی آنکھ کھلی۔ وہ سگریٹ ڈھونڈ رہے ہیں، سگریٹ نہیں ہے۔ جان کے دیکھ رہے ہیں، پی کر پھینکی ہوئی ہو، تھوڑی بہت پی لو، وہ بھی نہیں۔ انہوں نے طے کیا کہ آج کے بعد سگریٹ نہیں پیئں گے۔ زندگی میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ ایک آدمی ہے، جماعت میں چلا گیا، نیک کام میں لگ گیا، اب اس کو شوق ہوا، میں نماز پڑھوں، قرآن پڑھوں۔عربی الفاظ نہیں، زبان سے نکلتے۔ اردو زبان نہیں سیکھی ہے۔ اب وہ ہندی یا انگریزی کی مدد سے قرآن پڑھنا شروع کرتا ہے۔ ایک بڑی تعداد لوگوں کی ہے، جو قرآن ہندی یا انگریزی سے پڑھ رہے ہیں۔ وہ ذرا لوگوں سے سنے۔ عربی زبان بڑی زبان ہے۔ وہ حروف نہ ہندی میں ہیں، نہ انگریزی میں ہیں۔ اردو کے علاوہ انہی زبانوں کے اندر بولی جا رہی ہے، کسی زبان میں الفاظ نہیں ہیں۔جیسے، جو ادا کرے گا، مثلاً:جیم, زال, زے, صواد, زوئے۔پھر ریپیٹ کرتا ہوں:جیم, زال, زے, صواد, زوئے۔اب لائیے انگلش میں آپ، ج (J)، یا زیڈ (Z)۔اس کے اندر، وہاں جو کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کیا چیز ہے؟کہ جیم ہے، کہ زال ہے، کہ زے ہے، کہ صواد ہے، کہ زوئے ہے، کیسے بات کرو گے؟جب کہ عربی میں حروف کے بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں۔جیم سے آپ کہیں، جَلّ (عظمت کے معنی میں، اللہ جَلَّ جَلَالُهُ)۔زال سے کہیے، زَلَّ (ذلت کے معنی میں، رسوائی کے معنی)۔زے سے کہیے، زَلَّ (لغزش کے معنی میں)۔صواد سے کہیے، زَلَّ (گمراہی کے معنی میں)۔زوء سے کہیے، زَلَّ (سایہ پڑنے کے معنی میں)۔یہ میں نے آپ کو مثال دی۔یہ الفاظ اردو میں تو ہیں۔ اردو زبان عربی زبان کو کور کرتی ہے۔ دیگر ہندی، انگلش، سنسکرت، کنڑ، گجراتی، مراٹھی، کوئی بھی زبان کور نہیں کرتی۔ وہ حرف ہوتے ہی نہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچوں کو بچپن میں قرآنِ پاک عربی تلفظ کے ساتھ پڑھوائیے۔ آج سے پچیس تیس سال پیچھے آپ دوڑ جائیں، تو مکاتب کے اندر ایک کتابچہ ہوتا تھا، یسرنا القرآن، جس کو آپ سندر قرآن کہتے ہو۔ ایک استاد، پچاس بچے بیٹھے ہیں۔ استاد نے چھڑی کھینچی ہوئی، ہاتھ۔ اب اس زمانے کے پڑھے ہوئے لوگ نمازی بنیں گے، چھوٹی سی، بڑی سی، چھوٹا کام، بڑا کام۔ جب انہوں نے سین اور شین میں فرق نہیں کیا، ان کو چھوٹی سین کہا جب تو بڑی سین کہا تو سین ہی رہ گیا، شین تو نکلتی نہیں تھی۔ ایک چھوٹا کام، ایک بڑا کام، اب فرق کیا کروایا؟ کام نکلے گا کیسے؟ اب فرق کیا ہوگا؟ جس کو آپ چھوٹا کام کہہ رہے ہیں، جس کو آپ بڑا کام کہہ رہے ہیں، اس سے کہیے، کل… تو معنی ہے کتا، اور جس کو آپ بڑا کام کہتے ہیں، اس سے کہیے، کل… تو معنی ہوگا دل۔ کیسے کور ہوگا؟ابھی بات سن لیجیے۔ نماز کے اندر قرآن کا صحیح پڑھنا بنیادی شرط ہے۔جو لوگ تیس تیس، چالیس چالیس سال سے نماز پڑھ رہے ہیں، پابندی کے ساتھ، قرآن کا تلفظ منضبط درست نہیں ہے، ان کی شین نکلتی نہیں، صراط والی سب کی نماز، سبحاتی والی، یہ ہم ذمہ داروں کی بات کر رہے ہیں، جو مسجد کے، سب سے اوپر نماز پڑھ رہے ہیں، آپ خود ہی بتائیے، جب تلفظ درست نہیں ہے، تو قرآن صحیح ہوا؟ نہیں ہوا۔ جب قرآن صحیح نہیں ہوا، تو نماز ہوگی، نہیں ہوگی؟ حاصل…جو نماز نہیں پڑھتے، ان کے بارے میں تو ہم بدتمیز کہیں گے۔ جو پابندی کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، قرآن کے تلفظ کی اہمیت نہیں ہے، اس لیے میرے بزرگوں، آج ہی سدھاریے۔ جس مسجد میں ہم نماز پڑھتے ہیں، امام صاحب سے، مسجد صاحب سے، رابطہ قائم کیجیے۔ چل کر جایئے، اپنے عاشق اپنے گھر میں بلا کر لیجیے۔ دو پانچ لوگ گروپ بنائیے۔ قرآن درس کیجیے۔ کم از کم سورۃ فاتحہ درست پڑھتے ہو، الحمدللہ کیچ سے چھوٹی صوتی درست لکھیے۔ التحیات کا تلفظ درست ہو۔ درود شریف کا تلفظ درست ہو۔ نماز کے اندر جو مسائل بیان ہوا، واجبات سیکھیے۔ اور یہی چیزیں بچوں کو منتر میں سکھائی جا رہی ہیں۔جب بچہ بچپن میں مکتب میں دینیات پڑھتا ہے، اسلامیات پڑھتا ہے، تو اس کی بنیاد میں دین داخل ہو جاتا ہے۔ پھر زندگی میں چاہے کہیں جائے، قدم پھسلتے نہیں ہیں۔ یہ مکاتب ان کو آپ معمولی مت سمجھیے۔ دین کے سارے کاموں میں تعاون ہم کو شرف ملتا ہے۔ مسجد بنی، تعاون کیا، ثواب ملا۔ کسی کی بھلے کی کام میں تعاون کیا، ثواب ملا۔ مکتب میں آکر استاد سے پوچھیے کہ بھائی جان کیا چل رہا ہے؟ کیا استاد پڑھانے بیٹھ رہے ہیں؟ بچوں کی فیس برابر آتی ہے کہ نہیں جاتی ہے؟ ان کو جو پڑھانے کا محنت کرنا دیا جاتا ہے، وہ پورا ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا ہے؟ نہیں ہو رہا ہے، دو سو روپیہ مہینے کا اس سے لے لیا کیجیے۔ سو روپیہ میرا دوست دے دے گا، تین سو روپیہ میرا بھائی دے دے گا۔ اس دینی تعلیم میں ہمارا پیسہ لگے گا۔ ہم اور آپ مر کر اپنی قبروں میں آرام کر رہے ہوں گے۔ یہ ہماری قبروں کے اوپر سایہ دار درخت ہو۔ یہ دینی تعلیم جب بچے اور بچیاں پڑھ کر آنے لگتی ہے، ایک بچی قرآن صحیح پڑھ کر جاتی ہے، ایک بچی دین سیکھ کر جاتی ہے، جس گھرانے اور خاندان میں جائے گی، پورے خاندان کو دین دار بنائے گی۔ ایک بچے کا پڑھنا، ایک فرض کا پڑھنا ہوتا ہے، اور بچی کا پڑھنا پورے خاندان کا پڑھنا ہوتا ہے۔ تو مکاتب کو معمولی مت سمجھیے۔جو تو آپ کے یہاں رہتے ہیں، اس کو نہیں معلوم ذمہ دار کون ہے؟ میں مسجد کی ذمہ داران سے کہوں گا، پنج وقتہ نماز پڑھنے کے لیے اتنی اڑچنیں، اجازتیں نہیں بڑھ گئی ہیں۔ ان عمارتوں کا استعمال دینی تعلیم میں کیجیے۔ داموں، تنقید کے کام میں کیجیے۔ علماء کرام کے بیانات میں کیجیے۔ تفسیرِ قرآن کے حلقے لگوائیے۔ مسجدوں کو دینی ماحول سے آباد کیجیے۔ علماء سے رابطہ جوڑیے۔ اور کہیں اگر کوئی ضرورت ہے، تو اپنی جیب سے دو دو سو، پانچ پانچ سو روپے ہم ڈال دیں۔ خرچ پر، پربومی کے نام پر۔ میرے باپ کا انتقال ہوا۔ کسی کی بیوی کا انتقال ہوا۔ کسی کی جوان بیٹے کا انتقال ہوا۔ بھائی، ایک غریب بچے کی فیس ہم بھریں گے۔ کتنی ہوگی مہینے کی؟ دو سو تین سو روپیہ، ایک بچہ ہم پڑھائیں گے۔ جب ہمارا پیسہ بچے کی تعلیم میں لگے گا، اور بچہ پڑھ کر دنیا کے اندر دین کی خدمت کرے گا، چراغ سے چراغ جہاں تک جلیں گے، دینی فیض پہنچے گا، قیامت تک سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے بہتر کوئی صدقہ جاریہ نہیں۔جس بچے نے، سرٹن بچے نے، الحمدللہ آپ کے محلے کے بچے نے قرآن پاک مکمل کیا۔ کتنا خوش قسمت ہے یہ بچہ! اور سن! ایک بچہ اگر قرآن پاک سینے کے اندر محفوظ کر لیتا ہے، اور اس کے بعد اسکول پڑھنے جاتا ہے، تو اللہ کی خصوصی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ اب اس کے لیے اسکول کی تعلیم اور آسان ہو جاتی ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں، قرآن پاک بوڑھے نہیں بنتا ہے۔ قرآن پاک روحانیت ہے، نورانیت ہے۔ یہ بچہ اپنی ذات سے اللہ کا مفرور بنا، اس کے ماں باپ کی خدمت، ان کا، ان کے ادارے کے ساتھ ان کا تعاون، ان بچے کے ساتھ ان کا تعاون، اس کے بدلے میں اللہ ان کو روزِ قیامت وہ تاج پہنائے گا۔ جو سورج سے زیادہ روشن ہوگا۔ کیوں؟ بچے کو نہ پڑھاتے قرآن، تو دنیا کے لیے وہ کراتے، نہ لگتے مکتب ورس سے، یہ کام کرواتے، کریانہ کی دکان میں، حالانکہ کراتے، مزدوری کرواتے، دو ہزار پانچ سٹما لیتا، بچے کو اٹھا کر دینی کام میں ڈالا۔ میں آپ کو بتلا دوں۔ یہ تو ہم فضیلت بتلا رہے ہیں کہ باپ کو یہ ملے گا، ماں کو یہ ملے گا۔ اس کے ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کو دینی تعلیم کے لیے مکمل فارغ کریں۔ اس کا احترام کریں۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ عام حضرات! عام حضرات سے کہہ رہا ہوں، قرآن پاک کو پڑھنا ثواب، پڑھانا ثواب، دیکھنا ثواب، سننا ثواب۔ اور ان مدرسوں اور مکاتب میں قرآن پاک پڑھاؤں پڑھایا جاتا ہے، ان کے طلباء کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب، ان کے اساتذہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب، جن درس گاہوں میں، ان مسجدوں کے اندر جن عبادتوں کے اندر قرآن پاک پڑھایا پڑھایا جا رہا ہے، ان کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب۔ حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب سجاد نعمانی صاحب نے واقعہ نقل کیا، فرمایا:حضرت العُلماء کے باہر، گیم کے باہر ایک صاحب، منظور تھے۔ وہ چیئر پر ایا کرتے تھے۔ میر چیئر میں۔ آکر کنارے بیٹھے رہا کرتے تھے۔ یہ سب دیکھیے، بیچارے پریشان حال ہوں گے۔ وہ کہتے نہیں ہیں، حقدار نہیں ہوں گے۔ پوچھا، چاچا! ہم یہاں کیوں آتے ہیں؟ آپ کو تو ضرورت ہے نہیں۔ روز کیوں آتے ہیں؟ فرمایا، بھائی! طلباء کو دیکھ کر خوش ہوں۔ جب میں مہمان اور رسول کو دیکھنے جاتا ہوں، ایک طلباء کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، بارش سے ثواب ہے۔ ان اساتذہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں بارش سے ثواب ہے۔ میں محلے والوں سے، علاقے والوں سے، امیروں کا دروازہ کھولوں گا۔ آپ حضرات اس وقت کو اور مضبوط۔ آج اگر سو بچے پڑھ لیں، تو کل دو سو بچے پڑھیں۔ آبادی بہت بڑی ہے، مسلم آبادی ہے، گھنی آبادی ہے، ہر ہر بچہ اسکول پڑھنے کے مکتب میں آکر دینی تعلیم حاصل کرے۔ اسکول کی تعلیم چھڑا کر نہیں، اسکول کی تعلیم کو روک کر نہیں، وہ تعلیم بھی ضروری ہے اور یہ تعلیم بھی ضروری ہے۔ اسکول والی تعلیم اس کا فائدہ وہ پیٹ پالے گی، جب تک زمین کی قیمت چل رہی ہے، تب تک اس کا اثر دکھائے گی۔ اس کا فائدہ جب آنکھ بند ہوگی، ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی شروع ہوگی، یہ تعلیم اس کا اثر وہاں دکھائے گی۔ یہ قبر کی تعلیم کی روشنی پیدا کرے گی، میدانِ حشر کے اندر ماحول میں، نورو ہو، حساب بن جائے گی وہ بھی، وہ بھی انی، اور پراجیکٹ سے آسانی کے ساتھ گزارے گی، اور اللہ کے کلام سے کسی کو محبت نصیب ہو جائے، اس سے بڑی کوئی شہادت نہیں ہے۔ ہر مسلمان تھوڑا سا حصہ قرآن کا ضرور پڑھے۔ تلفظ کے ساتھ محبت کیجئے۔ موٹے موٹے مسائل سیکھیے۔ نماز کے بارے میں واجبات سیکھیے۔ حلال و حرام سیکھیے۔ روزے کے مسائل، زکوٰۃ کے مسائل، قربانی کے مسائل، حرام و حلال کے مسائل، جن چیزوں سے ہمارا سابقہ ہے، ان کے مسائل سیکھ کر عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اللہ تبارک و تعالی اس معصوم بچے کے دل سے قرآن کو قبول فرمائے، اس کے والدین کو بہتر سے بہتر صلہ عطا فرمائے۔ ان اساتذہ کی منتوں سے بچے نے قرآن پاک مکمل کیا، ان کو بہتر سے بہتر صلہ عطا فرمائے، اور مکتب میں پڑھنے والے تمام بچوں اور بچیوں کو دینی قیمت کی توفیق عطا فرمائے۔

Admin

Admin

Next Post
مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

برادران وطن کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کا رشتہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

2 مہینے ago
یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

2 مہینے ago

مقبول

  • دنیا کی سب سے اثر ترین شخیت: اس کا معیار فورتھ کلاس ملازمین ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ایک کروڑ کے لیے کیا کروگے؟ ٹک ٹاک کا سوال

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • برادران وطن کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کا رشتہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مکتب کی تعلیم کے بغیر نماز میں قلب (دل) کے بجائے کلب (کتا) ہوسکتا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.