11/جولائی 2025 کو مولانا حذیفہ صاحب کا بیان
کورونا میں، دسمبر میں، مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد وہ مکمل پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ میں نے ان سے پوچھا بھائی یہ اچانک تبدیلی کیسے آئی؟ کہنے لگے کہ قرآن ملے گا، مسجد کی شہادت کا انتقام نہیں ہوتا نا وہ دیکھ کر۔ اب کیا کر سکتے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اپنے آپ کو نمازی تو بنا سکتا ہوں۔ میں نماز پڑھنا شروع کر دوں، یہ تو کر سکتا ہوں؟ بس، میں نے شروع کر دیا۔ایک دوست تھے، سگریٹ بہت پیتے تھے۔ رات گئے، کہیں شور ایسے سگریٹ ختم ہوگئی۔ ان کی آنکھ کھلی۔ وہ سگریٹ ڈھونڈ رہے ہیں، سگریٹ نہیں ہے۔ جان کے دیکھ رہے ہیں، پی کر پھینکی ہوئی ہو، تھوڑی بہت پی لو، وہ بھی نہیں۔ انہوں نے طے کیا کہ آج کے بعد سگریٹ نہیں پیئں گے۔ زندگی میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ ایک آدمی ہے، جماعت میں چلا گیا، نیک کام میں لگ گیا، اب اس کو شوق ہوا، میں نماز پڑھوں، قرآن پڑھوں۔عربی الفاظ نہیں، زبان سے نکلتے۔ اردو زبان نہیں سیکھی ہے۔ اب وہ ہندی یا انگریزی کی مدد سے قرآن پڑھنا شروع کرتا ہے۔ ایک بڑی تعداد لوگوں کی ہے، جو قرآن ہندی یا انگریزی سے پڑھ رہے ہیں۔ وہ ذرا لوگوں سے سنے۔ عربی زبان بڑی زبان ہے۔ وہ حروف نہ ہندی میں ہیں، نہ انگریزی میں ہیں۔ اردو کے علاوہ انہی زبانوں کے اندر بولی جا رہی ہے، کسی زبان میں الفاظ نہیں ہیں۔جیسے، جو ادا کرے گا، مثلاً:جیم, زال, زے, صواد, زوئے۔پھر ریپیٹ کرتا ہوں:جیم, زال, زے, صواد, زوئے۔اب لائیے انگلش میں آپ، ج (J)، یا زیڈ (Z)۔اس کے اندر، وہاں جو کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کیا چیز ہے؟کہ جیم ہے، کہ زال ہے، کہ زے ہے، کہ صواد ہے، کہ زوئے ہے، کیسے بات کرو گے؟جب کہ عربی میں حروف کے بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں۔جیم سے آپ کہیں، جَلّ (عظمت کے معنی میں، اللہ جَلَّ جَلَالُهُ)۔زال سے کہیے، زَلَّ (ذلت کے معنی میں، رسوائی کے معنی)۔زے سے کہیے، زَلَّ (لغزش کے معنی میں)۔صواد سے کہیے، زَلَّ (گمراہی کے معنی میں)۔زوء سے کہیے، زَلَّ (سایہ پڑنے کے معنی میں)۔یہ میں نے آپ کو مثال دی۔یہ الفاظ اردو میں تو ہیں۔ اردو زبان عربی زبان کو کور کرتی ہے۔ دیگر ہندی، انگلش، سنسکرت، کنڑ، گجراتی، مراٹھی، کوئی بھی زبان کور نہیں کرتی۔ وہ حرف ہوتے ہی نہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچوں کو بچپن میں قرآنِ پاک عربی تلفظ کے ساتھ پڑھوائیے۔ آج سے پچیس تیس سال پیچھے آپ دوڑ جائیں، تو مکاتب کے اندر ایک کتابچہ ہوتا تھا، یسرنا القرآن، جس کو آپ سندر قرآن کہتے ہو۔ ایک استاد، پچاس بچے بیٹھے ہیں۔ استاد نے چھڑی کھینچی ہوئی، ہاتھ۔ اب اس زمانے کے پڑھے ہوئے لوگ نمازی بنیں گے، چھوٹی سی، بڑی سی، چھوٹا کام، بڑا کام۔ جب انہوں نے سین اور شین میں فرق نہیں کیا، ان کو چھوٹی سین کہا جب تو بڑی سین کہا تو سین ہی رہ گیا، شین تو نکلتی نہیں تھی۔ ایک چھوٹا کام، ایک بڑا کام، اب فرق کیا کروایا؟ کام نکلے گا کیسے؟ اب فرق کیا ہوگا؟ جس کو آپ چھوٹا کام کہہ رہے ہیں، جس کو آپ بڑا کام کہہ رہے ہیں، اس سے کہیے، کل… تو معنی ہے کتا، اور جس کو آپ بڑا کام کہتے ہیں، اس سے کہیے، کل… تو معنی ہوگا دل۔ کیسے کور ہوگا؟ابھی بات سن لیجیے۔ نماز کے اندر قرآن کا صحیح پڑھنا بنیادی شرط ہے۔جو لوگ تیس تیس، چالیس چالیس سال سے نماز پڑھ رہے ہیں، پابندی کے ساتھ، قرآن کا تلفظ منضبط درست نہیں ہے، ان کی شین نکلتی نہیں، صراط والی سب کی نماز، سبحاتی والی، یہ ہم ذمہ داروں کی بات کر رہے ہیں، جو مسجد کے، سب سے اوپر نماز پڑھ رہے ہیں، آپ خود ہی بتائیے، جب تلفظ درست نہیں ہے، تو قرآن صحیح ہوا؟ نہیں ہوا۔ جب قرآن صحیح نہیں ہوا، تو نماز ہوگی، نہیں ہوگی؟ حاصل…جو نماز نہیں پڑھتے، ان کے بارے میں تو ہم بدتمیز کہیں گے۔ جو پابندی کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، قرآن کے تلفظ کی اہمیت نہیں ہے، اس لیے میرے بزرگوں، آج ہی سدھاریے۔ جس مسجد میں ہم نماز پڑھتے ہیں، امام صاحب سے، مسجد صاحب سے، رابطہ قائم کیجیے۔ چل کر جایئے، اپنے عاشق اپنے گھر میں بلا کر لیجیے۔ دو پانچ لوگ گروپ بنائیے۔ قرآن درس کیجیے۔ کم از کم سورۃ فاتحہ درست پڑھتے ہو، الحمدللہ کیچ سے چھوٹی صوتی درست لکھیے۔ التحیات کا تلفظ درست ہو۔ درود شریف کا تلفظ درست ہو۔ نماز کے اندر جو مسائل بیان ہوا، واجبات سیکھیے۔ اور یہی چیزیں بچوں کو منتر میں سکھائی جا رہی ہیں۔جب بچہ بچپن میں مکتب میں دینیات پڑھتا ہے، اسلامیات پڑھتا ہے، تو اس کی بنیاد میں دین داخل ہو جاتا ہے۔ پھر زندگی میں چاہے کہیں جائے، قدم پھسلتے نہیں ہیں۔ یہ مکاتب ان کو آپ معمولی مت سمجھیے۔ دین کے سارے کاموں میں تعاون ہم کو شرف ملتا ہے۔ مسجد بنی، تعاون کیا، ثواب ملا۔ کسی کی بھلے کی کام میں تعاون کیا، ثواب ملا۔ مکتب میں آکر استاد سے پوچھیے کہ بھائی جان کیا چل رہا ہے؟ کیا استاد پڑھانے بیٹھ رہے ہیں؟ بچوں کی فیس برابر آتی ہے کہ نہیں جاتی ہے؟ ان کو جو پڑھانے کا محنت کرنا دیا جاتا ہے، وہ پورا ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا ہے؟ نہیں ہو رہا ہے، دو سو روپیہ مہینے کا اس سے لے لیا کیجیے۔ سو روپیہ میرا دوست دے دے گا، تین سو روپیہ میرا بھائی دے دے گا۔ اس دینی تعلیم میں ہمارا پیسہ لگے گا۔ ہم اور آپ مر کر اپنی قبروں میں آرام کر رہے ہوں گے۔ یہ ہماری قبروں کے اوپر سایہ دار درخت ہو۔ یہ دینی تعلیم جب بچے اور بچیاں پڑھ کر آنے لگتی ہے، ایک بچی قرآن صحیح پڑھ کر جاتی ہے، ایک بچی دین سیکھ کر جاتی ہے، جس گھرانے اور خاندان میں جائے گی، پورے خاندان کو دین دار بنائے گی۔ ایک بچے کا پڑھنا، ایک فرض کا پڑھنا ہوتا ہے، اور بچی کا پڑھنا پورے خاندان کا پڑھنا ہوتا ہے۔ تو مکاتب کو معمولی مت سمجھیے۔جو تو آپ کے یہاں رہتے ہیں، اس کو نہیں معلوم ذمہ دار کون ہے؟ میں مسجد کی ذمہ داران سے کہوں گا، پنج وقتہ نماز پڑھنے کے لیے اتنی اڑچنیں، اجازتیں نہیں بڑھ گئی ہیں۔ ان عمارتوں کا استعمال دینی تعلیم میں کیجیے۔ داموں، تنقید کے کام میں کیجیے۔ علماء کرام کے بیانات میں کیجیے۔ تفسیرِ قرآن کے حلقے لگوائیے۔ مسجدوں کو دینی ماحول سے آباد کیجیے۔ علماء سے رابطہ جوڑیے۔ اور کہیں اگر کوئی ضرورت ہے، تو اپنی جیب سے دو دو سو، پانچ پانچ سو روپے ہم ڈال دیں۔ خرچ پر، پربومی کے نام پر۔ میرے باپ کا انتقال ہوا۔ کسی کی بیوی کا انتقال ہوا۔ کسی کی جوان بیٹے کا انتقال ہوا۔ بھائی، ایک غریب بچے کی فیس ہم بھریں گے۔ کتنی ہوگی مہینے کی؟ دو سو تین سو روپیہ، ایک بچہ ہم پڑھائیں گے۔ جب ہمارا پیسہ بچے کی تعلیم میں لگے گا، اور بچہ پڑھ کر دنیا کے اندر دین کی خدمت کرے گا، چراغ سے چراغ جہاں تک جلیں گے، دینی فیض پہنچے گا، قیامت تک سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے بہتر کوئی صدقہ جاریہ نہیں۔جس بچے نے، سرٹن بچے نے، الحمدللہ آپ کے محلے کے بچے نے قرآن پاک مکمل کیا۔ کتنا خوش قسمت ہے یہ بچہ! اور سن! ایک بچہ اگر قرآن پاک سینے کے اندر محفوظ کر لیتا ہے، اور اس کے بعد اسکول پڑھنے جاتا ہے، تو اللہ کی خصوصی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ اب اس کے لیے اسکول کی تعلیم اور آسان ہو جاتی ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں، قرآن پاک بوڑھے نہیں بنتا ہے۔ قرآن پاک روحانیت ہے، نورانیت ہے۔ یہ بچہ اپنی ذات سے اللہ کا مفرور بنا، اس کے ماں باپ کی خدمت، ان کا، ان کے ادارے کے ساتھ ان کا تعاون، ان بچے کے ساتھ ان کا تعاون، اس کے بدلے میں اللہ ان کو روزِ قیامت وہ تاج پہنائے گا۔ جو سورج سے زیادہ روشن ہوگا۔ کیوں؟ بچے کو نہ پڑھاتے قرآن، تو دنیا کے لیے وہ کراتے، نہ لگتے مکتب ورس سے، یہ کام کرواتے، کریانہ کی دکان میں، حالانکہ کراتے، مزدوری کرواتے، دو ہزار پانچ سٹما لیتا، بچے کو اٹھا کر دینی کام میں ڈالا۔ میں آپ کو بتلا دوں۔ یہ تو ہم فضیلت بتلا رہے ہیں کہ باپ کو یہ ملے گا، ماں کو یہ ملے گا۔ اس کے ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کو دینی تعلیم کے لیے مکمل فارغ کریں۔ اس کا احترام کریں۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ عام حضرات! عام حضرات سے کہہ رہا ہوں، قرآن پاک کو پڑھنا ثواب، پڑھانا ثواب، دیکھنا ثواب، سننا ثواب۔ اور ان مدرسوں اور مکاتب میں قرآن پاک پڑھاؤں پڑھایا جاتا ہے، ان کے طلباء کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب، ان کے اساتذہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب، جن درس گاہوں میں، ان مسجدوں کے اندر جن عبادتوں کے اندر قرآن پاک پڑھایا پڑھایا جا رہا ہے، ان کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب۔ حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب سجاد نعمانی صاحب نے واقعہ نقل کیا، فرمایا:حضرت العُلماء کے باہر، گیم کے باہر ایک صاحب، منظور تھے۔ وہ چیئر پر ایا کرتے تھے۔ میر چیئر میں۔ آکر کنارے بیٹھے رہا کرتے تھے۔ یہ سب دیکھیے، بیچارے پریشان حال ہوں گے۔ وہ کہتے نہیں ہیں، حقدار نہیں ہوں گے۔ پوچھا، چاچا! ہم یہاں کیوں آتے ہیں؟ آپ کو تو ضرورت ہے نہیں۔ روز کیوں آتے ہیں؟ فرمایا، بھائی! طلباء کو دیکھ کر خوش ہوں۔ جب میں مہمان اور رسول کو دیکھنے جاتا ہوں، ایک طلباء کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، بارش سے ثواب ہے۔ ان اساتذہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں بارش سے ثواب ہے۔ میں محلے والوں سے، علاقے والوں سے، امیروں کا دروازہ کھولوں گا۔ آپ حضرات اس وقت کو اور مضبوط۔ آج اگر سو بچے پڑھ لیں، تو کل دو سو بچے پڑھیں۔ آبادی بہت بڑی ہے، مسلم آبادی ہے، گھنی آبادی ہے، ہر ہر بچہ اسکول پڑھنے کے مکتب میں آکر دینی تعلیم حاصل کرے۔ اسکول کی تعلیم چھڑا کر نہیں، اسکول کی تعلیم کو روک کر نہیں، وہ تعلیم بھی ضروری ہے اور یہ تعلیم بھی ضروری ہے۔ اسکول والی تعلیم اس کا فائدہ وہ پیٹ پالے گی، جب تک زمین کی قیمت چل رہی ہے، تب تک اس کا اثر دکھائے گی۔ اس کا فائدہ جب آنکھ بند ہوگی، ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی شروع ہوگی، یہ تعلیم اس کا اثر وہاں دکھائے گی۔ یہ قبر کی تعلیم کی روشنی پیدا کرے گی، میدانِ حشر کے اندر ماحول میں، نورو ہو، حساب بن جائے گی وہ بھی، وہ بھی انی، اور پراجیکٹ سے آسانی کے ساتھ گزارے گی، اور اللہ کے کلام سے کسی کو محبت نصیب ہو جائے، اس سے بڑی کوئی شہادت نہیں ہے۔ ہر مسلمان تھوڑا سا حصہ قرآن کا ضرور پڑھے۔ تلفظ کے ساتھ محبت کیجئے۔ موٹے موٹے مسائل سیکھیے۔ نماز کے بارے میں واجبات سیکھیے۔ حلال و حرام سیکھیے۔ روزے کے مسائل، زکوٰۃ کے مسائل، قربانی کے مسائل، حرام و حلال کے مسائل، جن چیزوں سے ہمارا سابقہ ہے، ان کے مسائل سیکھ کر عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اللہ تبارک و تعالی اس معصوم بچے کے دل سے قرآن کو قبول فرمائے، اس کے والدین کو بہتر سے بہتر صلہ عطا فرمائے۔ ان اساتذہ کی منتوں سے بچے نے قرآن پاک مکمل کیا، ان کو بہتر سے بہتر صلہ عطا فرمائے، اور مکتب میں پڑھنے والے تمام بچوں اور بچیوں کو دینی قیمت کی توفیق عطا فرمائے۔





















