آج سوشل میڈیا کا استعمال صرف معلومات اور روابط تک محدود نہیں رہا، بلکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ گناہوں کی تجدید (ریویزن) کا ایک ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ انسان کو جن لغزشوں کو بھول جانا چاہیے، وہ انہیں بار بار دیکھا کر تازہ کرتا رہتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات نیک اعمال، جیسے صدقہ، عبادت یا خدمتِ خلق، جب سوشل میڈیا پر نمود و نمائش اور شہرت کی نیت سے پیش کیے جاتے ہیں تو وہ اخلاص سے خالی ہو کر ریاکاری میں بدل جاتے ہیں، اور یوں ثواب کے بجائے گناہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ایسی نازک صورتحال میں نبی کریم ﷺ کی ہدایت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہمیری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے گناہ کا علانیہ (کھلم کھلا) کرنے والوں کے۔ اور علانیہ گناہ کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک آدمی رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، پھر صبح ہو اور اللہ نے اس کا وہ گناہ چھپا رکھا ہو، لیکن وہ خود کہے کہ: ‘اے فلاں! میں نے کل رات فلاں اور فلاں گناہ کیا تھا’؛ حالانکہ اس نے اس حال میں رات گزاری تھی کہ اس کے رب نے اس کا پردہ رکھا ہوا تھا، اور وہ صبح کو اللہ کے اس پردے کو خود فاش (خاتمہ) کر دیتا ہے۔بَابُ سَتْرِ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ6069 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:«كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ».صحیح البخاری، كِتَابُ الأَدَبِ۔حدیث نمبر: 6069پردہ داری اس کے بالمقابل جو اپنے گناہوں کو پردے میں رکھتا ہے اس کے بارے میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت فرماتے ہیں کہصفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے "نجویٰ” (قیامت کے دن اللہ اور بندے کی سرگوشی/راز کی بات) کے بارے میں کیا سن رکھا ہے؟انہوں نے فرمایا: "تم میں سے ایک شخص اپنے رب کے قریب ہوگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا دامنِ رحمت (پردہ) ڈھانک دے گا، پھر اللہ فرمائے گا: ‘کیا تو نے فلاں اور فلاں گناہ کیا تھا؟’ وہ کہے گا: ‘جی ہاں!’، پھر اللہ فرمائے گا: ‘کیا تو نے فلاں اور فلاں گناہ کیا تھا؟’ وہ کہے گا: ‘جی ہاں!’ اس طرح اللہ اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا، پھر فرمائے گا: ‘میں نے دنیا میں بھی تیرے ان گناہوں کو چھپائے رکھا تھا اور آج کے دن بھی میں انہیں معاف کرتا ہوں۔6070 – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ:يَدْنُو أَحَدُكُمْ مِنْ رَبِّهِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، وَيَقُولُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَرِّرُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ.صحیح البخاری، كِتَابُ الأَدَبِ۔حدیث نمبر: 6070
مطالعہ بخاری محمد یاسین جہازی






















