اتوار, اگست 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

دل پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا: مولانا محمود مدنی صاحب

by Admin
اگست 9, 2026
in اسلامیات
0
مولانا محمود مدنی

مولانا محمود مدنی صدر جمعیت علمائے ہند

0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

5/اگست 2025 کو ماہانہ مجلس ذکر سے مولانا محمود مدنی صاحب نقشبندی کا خطاب

بمقام: مسجد عبدالنبی نئی دہلی

تین چیزیں ایسی ہیں، جن کا ذکر کرنے والے کو حاصل ہونے والا ایک تو نیت کا اختلاف ہے جب بندہ کوئی عمل کر رہا ہوتا ہے تو اس عمل کے دو مقصد ہو سکتے ہیں۔ ایک مقصد اللہ تعالی کی رضا، اس کے ہاں قبولیت اور دوسرا مقصد وہ جو نیت کے بگاڑ کی وجہ سے ہوتا ہے، دکھاوا، نمائش اور دنیا کی تعریف، اس کا مقصد تو اللہ تعالی کے ذکر کی برکت سے اگر اس پر مداومت ہو جائے، تو اللہ تعالی کے ذکر کی برکت سے نیت کے بگاڑ میں یہ ترمیم ہو جاتی ہے کہ اگر بگاڑ اتا بھی ہے تو باقی نہیں رہتا۔ انسان فوراً متوجہ ہو جاتا ہے، کبھی دیر لگتی ہے متوجہ ہونے میں، لیکن متوجہ ہو جاتا ہے کہ نہیں۔ اس طرح سے کام کرنے سے کام نہیں ہوتا۔ اور ہمارے کام کرنے کا یہ مقصد بھی نہیں۔ تو اس فقر کے فائدوں میں سے سب سے بڑا فائدہ تو ایمان کا خاتمہ ہے، جس کا تذکرہ بار بار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالی کے ذکر پر مداومت۔ مداومت کا مطلب پابندی۔ اگر پابندی سے اللہ کا ذکر کیا جائے، چاہے تھوڑا ہی ہو، لیکن پابندی سے کیا جائے، ریگولر کیا جائے۔ وہ جو آدمی کو کبھی شوق ہوتا ہے اور اس شوق میں پیدا ہوا اور جذبہ پیدا ہو گیا، خوب شوق پیدا ہو گیا، بندے نے دن دن جاگ کر، رات کو جاگ کر خوب عبادت کرلی اور پھر پڑھ کر سو گئے، اب مانو ہفتہ بھی چھٹی ہو گئی۔ تو یہ خاص خاص موقعے آتے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا تو سب لوگوں کو شوق ہوتا ہے۔ اچھی بات ہے، خاص موقعوں پر بھی کرنا چاہیے، رمضان المبارک آتا ہے، لیکن روزانہ کے معاملات، ان میں صبح شام کچھ ذکر ضرور ہونا چاہیے۔ تو پابندی سے، مداومت سے جو لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں، ان کو سب سے بڑا اور پہلا انعام تو یہی ملتا ہے کہ ایمان پر خاتمہ ہے۔ خاتمہ ایمان پر چاہیے تو اللہ تعالی کے ذکر پر مداومت ضروری ہے۔ آسان راستہ ہے اس اگر کسی کے دل میں یہ طلب ہو جائے پیدا کہ پروردگار! آپ نے اپنی مہربانی سے ایمان کی دولت سے نوازا۔ ہم تو اس قابل بھی نہیں تھے کہ مانگ پاتے کہ ہمیں ایمان عطا فرما۔ اللہ تعالی نے اپنی مہربانی سے ایمان عطا فرما دیا۔ تو اگر قابل لوگ موجود ہیں دنیا میں، باصلاحیت لوگ موجود ہیں، ذہین اور سمجھدار لوگ موجود ہیں ایمان کی دولت سے محروم۔ تو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے ایمان عطا فرما دیا۔ تو اسی پر موت آ جائے تو ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی کو حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا، انہوں نے شاید اس سے پہلے کہا کہ یہ آپ کے پاس سب سب چیز موجود ہے یہ ہر وقت عبادت میں لگے رہتے ہیں، آپ کو چاہیے کیا؟ تو فرمائے ایمان پر موت ہو۔ موت کے وقت ایمان جائے۔ تو اللہ تعالی کے ذکر کا ایک بڑا فائدہ، سب سے بڑا فائدہ یہ ہے اور جیسا کہ یہاں سے میں نے شروع کیا تھا کہ وہ بندہ جو ہے اس کی نیت کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور نیت کو صحیح رکھنا، صحیح نیت پر رہنا آسان ہو جاتا ہے اگر اللہ تعالی کے ذکر پر پابندی رہے۔ یعنی اس فقر میں جتنے سمجھدار لوگ ہیں ہمیشہ اس فقر میں رہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو ہماری نیت خراب نہ ہو جائے۔ نیت گڑبڑ نہ جائے حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، "میں نے نیت سدھاری تو الٹنے پلٹنے والی چیز ہو جاتی ہے۔” گھڑی میں آدمی تولہ ہوتا ہے گھڑی میں ماشہ ہوتا ہے۔ اسی کی طرف حضرت کا اشارہ ہے کہ بہت الٹنے پلٹنے والی چیز ہے تو اب وہ کیا کیا چیزیں ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے ہماری نیت پلٹتی نہیں اور اگر پلٹ جائے تو واپس آ جائے اپنی جگہ، جلدی سے ٹھیک کر لیں ہم اپنے آپ کو، اپنے دل کو صحیح جگہ پر رکھیں۔ اور تعلق دل سے ہے تو اب دل سے اگر نیت کا تعلق دل سے ہے یا کسی بھی چیز کا تعلق دل سے ہے تو ہمیں یہ ڈھونڈنا ہوگا قرآن میں اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کہ دل کو ٹھیک رکھنے والی یا کرنے والی کیا کیا چیزیں ہیں؟تو ان میں سب سے زیادہ جو کارآمد چیز ہے، دل کو صحیح رکھنے والی، صحیح رکھنے والی، وہ اللہ کا ذکر ہے۔ اور ذکر کے جتنے طریقے ہیں، بہت سے طریقے ہیں، قرآن کریم کو افضل و ذکر قرار دیا گیا، اسی لیے سب مشائخ یہ فرماتے ہیں بھئی سارے اذکار کرو، لیکن ساتھ میں قرآن کریم کی تلاوت ضرور کرو۔ اور جو کم سے کم ایک مسلمان کے لیے فارمولا متعین کیا ہے، وہ ایک پارہ ہے۔ کہ ایک پارہ تو روز پڑھنا ہی چاہیے۔ ویسے تو حفاظ کے بارے میں تو ہم نے اپنے مشائخ سے سنا ہے کہ بھئی ایک منزل حافظ کو ضرور پڑھنی چاہیے روزانہ۔ تو تھوڑا مشکل ہے، حافظ کے لیے بھی، غیر حافظ کے لیے تو ناممکن سا ہے تقریباً۔ ویسے ہم نے ایسے غیر حافظ دیکھے ہیں، جو روزانہ اتنا پڑھتے ہیں۔ ہمارے حضرت قاری عثمان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ وہ روزانہ کم از کم ایک منزل پڑھتی تھیں قرآن، گھر کے سارے کاموں کے ساتھ۔ اتنی مسلمان کی تابعداری۔ گھر کے سارے کام کاج میں لگی رہیں آخری زمانہ تک لگی رہیں، اور ایسا نہیں تھا کہ وہ بیٹھی ہوئی تھی تو بیٹھے والے کے لیے تو آسان ہے، چلو بھئی دوپہرہ صبح پڑھ لیے، جو شام کو پڑھ لیے جو ٹائم ملا، تھوڑا تھوڑا کر کے کام کے اوپر پڑھ لیا، نہیں اپنا کام بھی کر رہی اور اور بھی بہت لوگوں کو دیکھا ہے تو لیکن یہ کہ موجودہ زمانے میں، میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کچھ نہیں، معمول اگر بنا لے ایک پاؤ کا، ایک پارہ نہیں، ایک پاؤ کا بھی معمول بنا لے کہ جی پڑھنا ہی ہے۔ اور وقت متعین کر لے তো اور اچھی بات۔ تو افضل و ذکر ہے کیونکہ قرآن کریم اس کی تلاوت۔ ویسے تو نمازیں جو ہم لوگ پڑھتے ہیں، وہ بھی ذکر میں شامل ہے۔ اور فرض ہو تو وہ تو ہے ہی ہے، فرض پہ فرض ہے، فرض کے علاوہ جو پڑھتے ہیں وہ بھی ذکر میں شامل ہے۔ پھر ہمارے مشائخ نے بزرگوں نے اس سے اور زیادہ کی کوشش کرنے والوں کے لیے کچھ طریقے اور کچھ تعداد متعین کر کے بتائی، "یہ کرو گے تو فائدہ یہ ہوگا کہ تم غفلت میں نہیں رہو گے۔ اگر غفلت آئے گی بھی تو وہ لمحوں سے زیادہ نہیں رہ سکتی تمہارے پاس۔ فوراً متوجہ کر لیں گی۔ تم متوجہ ہو جاؤ گے اور اگر اس طرح ذکر کے عادی بن گئے۔ چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کب ذکر فرماتے تھے؟ سوال کیا کس وقت ذکر فرماتے تھے؟ تو فرمایا: علی کل احیانی۔ وہ تو ہر حال میں ذکر فرماتے تھے۔ سوتے، جاگتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ہر حال میں ذکر فرمایا کرتے تھے۔ علی کل احیانی یہ جملہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے استعمال فرمایا۔ تو اگر اللہ کا ذکر طبیعت طبیعت ثانیہ بن جائے۔ یہ اردو میں جملہ استعمال ہوتا ہے کہ آدمی کی عادت بن جائے۔ وہ چاہے زبان سے ہو، سانس سے ہو، دل سے ہو یا پھر آدمی ڈوب جائے۔ آخری مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالی کے ذکر میں ڈوب جائے۔ جس کو کہتے ہیں رم جانا۔ تو بس ارادے سے جڑے تھے۔ اور جہد مسلسل کی ضرورت، لگاتار کوشش کرنے کی ضرورت ہے، تو میں نے دو چیزیں تو عرض کر دی کہ اللہ تعالی کے ذکر سے پہلا فائدہ ایمان پر خاتمہ، دوسری چیز ہے نیت کی اصلاح۔ دو چیزیں تو عرض کر دی، تیسری چیز رہ گئی ہے۔ وہ آدمی کے رویے کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اللہ تعالی کا ذکر جو ہے، انسان کے سوچنے کے انداز کو بدل دیتا ہے۔ جتنی مصیبتیں آتی ہیں انسان کے اوپر، اخروی مصیبت، گناہ ہے سب سے بڑی، اخروی مصیبت جو ہے، وہ گناہ ہے۔ اور کچھ گناہ ایسے ہیں جو بے ارادہ ہو جاتے ہیں، اور کچھ گناہ ایسے ہیں جو آدمی ارادے سے اور فیصلے سے کرتا ہے۔ جیسے ہم لوگوں کو غیبت کی عادت ہو گئی ہے، پتہ تو نہیں چلتا غیبت کر رہے ہوتے ہیں، یہ بے ساختہ گناہ ہے، بدظنری کا گناہ بہت عام ہو گیا ہے۔ تو ہمیں احساس نہیں ہوتا، موبائل نے ہم کو اور زیادہ بدظنری میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو جو گناہ بے ساختہ ہوتے ہیں، ان میں بھی جو گناہ ہیں جو، دو حصے کیے گئے ہیں گناہ، وہ گناہ ہیں جو گناہ صغیرہ ہیں، لیکن غیبت تو گناہ کبیرہ میں سے ہے، وہ گناہ صغیرہ نہیں۔ اور عادت ہم لوگوں کی سب کو ایسی ہو گئی ہے کہ مجلس ہوتی ہے، تو سننے والے بھی آرام سے سنتے ہیں، غیبت کو، تو احساس بھی نہیں ہوتا، کہ ہم غیبت کر رہے ہیں یا سن رہے ہیں، تو سننا بھی تو گناہ ہے، اس میں برائی ہے، تو ہمیں ہماری ذمہ داری ہوتی ہے، جب اس برائی کو روکے، اگر ہم کسی ظالم کے ہاتھ کو نہیں پکڑ سکتے، ظلم کرنے سے، تو اپنے بھائی کو منع تو کر سکتے ہیں کہ بھائی ہمارے سامنے غیبت نہ کرو۔ وہ تو آسان ہے، آسان کام کرتے نہیں، مشکل کام کے بارے میں سوچے رہتے ہیں، یہ کام ہونے کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے، مشکل کام کے بارے میں بھی ارادہ تو کرنا چاہیے، رکھنے چاہیے۔ لیکن جو کر سکتے ہو، وہ کرو۔ تو گناہ جو ہیں، ان سے معصیت سے بچانے کا ذریعہ اللہ تعالی کے ذرائع میں سے سب سے مضبوط ذریعہ جو ہے، وہ اللہ کا ذکر ہے۔ انسان اگر نیکی نہیں کر سکتا، نیکی کرنا بڑی بات ہے، لیکن گناہ سے بچنا اس سے زیادہ بڑا معاملہ ہے۔ یعنی نکاح، اہ اہ اہ نیکی کرنا تو اچھی بات ہے، کرنی ہی چاہیے، لیکن انسان نیکی کرے اور گناہ سے بچنے کی کوشش نہ کرے، تو نیکیوں کا پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ نیکیوں کا فائدہ پوری طرح آپ تب اٹھا سکیں گے، جب گناہ سے بچتے رہیں گے۔ تو اللہ تعالی کا ذکر بہت سارے فائدے دیتا ہے، بے شمار فائدے، الگ الگ جگہوں پر اس کے تذکرے کیے گئے ہیں۔ تحذیر میں، تذکیر میں۔ لیکن تین بڑے فائدے جو مجھے سمجھ میں آئے تھے، تو میں نے آپ کے سامنے عرض کیے۔ اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو سب کو اپنے ذکر سے، اپنے آپ سے جڑنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اگر اللہ تعالی کے ساتھ جوڑ پیدا ہو جائے، اچھا اور ایک اور شرائط میں سے ایک بڑی شرط ہے، جو سارے مشائخ متفق ہیں۔ سارے تجربہ کار لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی کا قرب بغیر جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلے ہوئے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خود اللہ تعالی نے قرآن میں حکم بھیج دیا، وہ جو آیت ہے، قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔ کہ اگر تم آپ، نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے فرما رہے ہیں کہ بھئی، اگر تم اللہ سے محبت سے اعلان کر دیجیے آپ، اللہ تعالی قرآن میں اپنے محبوب کو حکم فرما رہے ہیں، کہ آپ اعلان کر دیجیے، کس لیے اعلان کر دیجیے؟ کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو، تو میری اتباع کرو، میری پیروی کرو۔ اور بدلے میں اللہ تعالی تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا یا حبک کم اللہ۔ وہاں بھی تحبون اللہ کا لفظ استعمال کیا، یہاں بھی یحبک کم اللہ کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ون وے ٹریفک نہیں چلے گا، ٹو وے ہوگا۔ آپ چاہتے ہیں، تو آپ بھی چاہا، آپ بھی چاہے جانے لگیں گے۔ آپ چاہتے ہیں تو اللہ نے بھی آپ کو چاہنے لگیں گے۔ شرط کیا ہے؟ آپ ان کے محبوب کے راستے پہ چلیے۔ اتباع کیجیے، اتباع کا لفظ استعمال، اس کے اوپر بھی بڑی لمبی تشریح ہے، کہ اتباع کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ سانچے میں ڈھل جانا۔ اپنے آپ کو سانچے میں ڈھال لینا۔ وہ اللہ کے ذکر کے اوپر مجھے یاد آ جائے کہ اگر نبی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، اتنا ذکر کرو کہ وہ تمہیں پاگل کہنے لگیں۔ یہ تو دیوانے ہیں، مجنوں ہیں۔ عقل عقل نام کی چیز بظاہر لوگوں کو نظر آنی بند ہو جائے گی۔ تو اللہ تعالی کے ذکر کی کامیابی کی، ذکر کے نتیجے میں کامیابی کی ضمانت اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مکمل اتباع میں ہے۔ اللہ تعالی ہمیں آپ کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

چاۓ پینا تو اک بہانہ ہے

2 مہینے ago
محمد یاسین جہازی

رمضان اور تکوینی نظام میں تبدیلیاں

6 مہینے ago

مقبول

  • مولانا محمود مدنی

    دل پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا: مولانا محمود مدنی صاحب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چار ملعون لوگ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نجات دین اسلام ماننے ہی میں ہے: مولانا اشرف عباس صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • درس قرآن کی مجلس میں ضرور شرکت کریں: نائب امیر الہند مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.