پانچویں قسط
محمد یاسین جہازی
حرمین کے قبوں اور مزارات کے متعلق شرعی فتویٰ اور حجاز کے حالات کی تحقیقات کے لیے دوسرا وفد دیار حبیب میں
سلطان عبدالعزیز ابن سعود کی حکومت کے استحکام کے بعد حجاز میں ایسے مزارات، قبوں اور تعمیرات کے انہدام کا سلسلہ شروع ہوا جنہیں سعودی حکومت شرک، بدعات اور عوامی استحصال کا ذریعہ سمجھتی تھی۔ اس کے ردِعمل میں شریفِ مکہ کے حامی حلقوں نے آلِ سعود کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کیا، جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی اور اس مسئلے کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے متعدد استفتے بھیجے گئے۔اسی سلسلے میں 2 ستمبر 1925ء کو محمد رفیع صاحب نے مفتیِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد کفایت اللہؒ صدر جمعیت علمائے ہند سے قبروں پر گنبد، قبے، غلاف، نذر و نیاز، طواف اور انہدامِ مزارات کے بارے میں ایک استفتا بھیجا۔ حضرت مفتی صاحب نے اپنے فتویٰ میں واضح فرمایا کہ قبروں کو پختہ بنانا، ان پر قبے و عمارتیں تعمیر کرنا، غلاف چڑھانا، نذر و نیاز، طواف اور سجدہ جیسے اعمال شریعت میں ممنوع اور منکراتِ شرعیہ ہیں، اور اگر سلطان ابن سعود نے ان منکرات کے ازالے کے لیے قبے منہدم کیے تو یہ ان کے نزدیک شرعی حکم کی تعمیل تھی۔ مزید یہ کہ حدیثِ نجد کو بنیاد بنا کر تمام اہلِ نجد یا ابن سعود کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں، بلکہ ہر شخص کے عقائد و اعمال ہی اس کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معیار ہیں۔ اسی شمارے میں مولانا وحید حسین، مولانا عبدالحلیم صدیقی اور مولانا ولایت احمد کے فتاویٰ بھی اسی موقف کی تائید میں شائع ہوئے۔بعد ازاں 6 اکتوبر 1925ء کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے ایک اہم اعلان جاری کیا، جس میں برطانوی کمیشن کی متوقع حجاز آمد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جزیرہ عرب کے کسی بھی حصے پر براہِ راست یا بالواسطہ غیر مسلم اقتدار مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے سلطان ابن سعود سے بھی توقع ظاہر کی کہ وہ جزیرہعرب کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنے کی ذمہ داری پوری استقامت سے ادا کریں گے، جبکہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات چھوڑ کر اس مشترکہ مقصد پر متحد ہوں۔حرمین کے آثارِ قدیمہ کے انہدام سے متعلق پھیلائی جانے والی مسلسل افواہوں کی حقیقت جاننے کے لیے جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے دوسرا مشترکہ وفد تشکیل دیا، جو 23 اکتوبر 1925 کو مولانا شوکت علی، مولانا محمد عرفان اور مولانا ظفر علی خان کی قیادت میں حجاز روانہ ہوا۔ دہلی کی جامع مسجد میں رخصتی کا عظیم الشان اجتماع ہوا اور اسی روز رات 10 بج کر 2 منٹ پر وفد دہلی سے بمبئی روانہ ہوگیا، جس کی تفصیل 26 اکتوبر 1925 کے سہ روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔وفد نے 24 نومبر 1925 کو مکہ معظمہ پہنچ کر سلطان ابن سعود سے ملاقات کی اور 26 نومبر 1925 کو مدینہ منورہ روانہ ہوا۔ 10 دسمبر 1925 کو پورٹ سوڈان سے بھیجے گئے تار میں اطلاع دی گئی کہ مسجد ابو قبیس کی مرمت مکمل ہوچکی ہے، مولدِ نبوی کی دوبارہ تعمیر جاری ہے، دیگر آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مدینہ کے آثارِ مقدسہ کی حفاظت کے لیے سلطان نے اپنے فرزند کو وفد کی ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اہلِ مدینہ کی امداد کے لیے دس ہزار پونڈ مختص کیے گئے ہیں، نہرِ زبیدہ کی مرمت بھی جاری ہے، اور 26 نومبر کی صبح امیر علی کے ہوائی جہاز کے کعبہ کے اوپر پرواز کرنے پر وفد نے مسلمانانِ ہند کی جانب سے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔اس کے بعد 14 دسمبر 1925 کو مولانا محمد عرفان کا رابغ سے بھیجا گیا تفصیلی خط شائع ہوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ 26 اکتوبر 1925 کو بمبئی سے روانہ ہوکر 18 نومبر 1925 کو رابغ پہنچے۔ انہوں نے عرب ممالک کی مذہبی و سماجی زبوں حالی، برطانوی اثرات، مسٹر فلبی کی سرگرمیوں، مدینہ منورہ کے محاصرے، اہلِ مدینہ کی انتہائی ابتر معاشی حالت، تقریباً 600 مہاجرین کی رابغ میں موجودگی، مدینہ کی سابقہ 20 ہزار آبادی کے منتشر ہونے، شریف علی کی حکومت کی بدانتظامیوں، گنبدِ خضرا پر مبینہ گولہ باری کے پروپیگنڈے کی حقیقت اور مہاجرین کی دردناک کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا۔ ان کے مطابق مدینہ کے عوام قحط، بھوک اور محاصرے کا شکار تھے، جبکہ شریفی حکومت نے ان پر شدید مظالم ڈھائے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ سلطان ابن سعود نے مدینہ کے احترام کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی امداد کے لیے ضروری احکام جاری کیے تھے، جبکہ شریفی پروپیگنڈے کے برخلاف متعدد الزامات کی حقیقت تحقیق کے بعد مختلف نکلی۔(جاری)۔۔۔۔۔



















