مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی صاحب کے ارشادات عالیہ، جو انھوں نے جمعیت علمائے ہند کے ایک تربیتی پروگرام میں فرمائے تھے۔بتاریخ=29/اپریل 202
"الحمد للہ نحمده ونستعينه ونستغفره، ونؤمن به ونتوكل عليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.أما بعد، فاعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، "ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته”محترم حضرات! فضلاء دارالعلوم اسلامیہ، بزرگوں اور عزیزوں! مختصر وقت میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دینی اسلام کے ہر فرد کو اپنے اپنے مقام اور مرتبہ اور حیثیت کے اعتبار سے کچھ ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ جو جس مقام اور منصب پر فائز ہے اس کے اعتبار سے اس کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں بتائی گئی ہیں۔چونکہ یہ حدیثِ کریم جو ابھی میں نے تلاوت کی ہے: "ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته”، کہ تم میں ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تھوڑی سی تفصیل بیان کی، جو ایمان و وقت کے حاکم ہیں ان کی کیا ذمہ داری ہے، گھر کا جو ذمہ دار ہے وہ اپنی فیملی کا ذمہ دار ہے، بیوی اپنے شوہر کے مکان اور ساتھ و سامان کی ذمہ دار ہے، اسی طرح ملازم اپنے آقا اور غلام اپنے مالک کے ساز و سامان اور اس کی امانت کا ذمہ دار ہے، باپ اپنی اولاد کا ذمہ دار ہے۔علماء جن کے ذمہ ایک اور ذمہ داری سپرد کی گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کر کے ایک سوال کیا تھا: "ألا هل بلغت” (کیا میں نے تم کو جو اللہ تعالی کی طرف سے امانت ملی تھی، یہ رسالت دی تھی، جو پیغام ملا تھا، یہ بتلاؤ میں نے تم تک پہنچا دیا کہ نہیں؟) تمام لوگوں نے بیک وقت، زبان سے جواب دیا: "نشهد أنك قد بلغت الرسالة وأديت الأمانة ونصحت الأمة” (ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا، امت کی خیرخواہی کا حق ادا کر دیا۔ اللہ کا پیغام پہنچا دیا، امت کی خیرخواہی کا حق ادا کر دیا)۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مخاطب فرمایا، فرمایا: "ألا فليبلغ الشاهد الغائب” (جن لوگوں تک میرا دین پہنچ چکا، تو وہ یہ ذمہ داری اوروں تک پہنچائیں)۔اللہ کا شکر ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے اس امانت کو پوری دیانت داری کے ساتھ پہنچایا، منتقل کیا، اسی کی برکت ہے کہ آج چودہ سو سال سے زیادہ گزر چکا ہے اور وہ دین اپنی اصلی شکل کے اندر محفوظ اور منقول چلا آ رہا ہے۔اب آج جو دین دار طبقہ ہے، دین دار طبقہ میرا صرف یہی نہیں کہ وہ عالم و فاضل ہو، بلکہ جو بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنی دینی ذمہ داری کو محسوس کرتا ہے، چاہے وہ کوئی گھر کا باپ ہو، کسی فیملی کا نگران ہو، کسی خاندان کا سربراہ ہو، کسی مسجد کا امام ہو، کسی مدرسے کا استاد ہو، بلکہ اسی ادارے کا فاعل ہو، حافظ ہو، قاری ہو، مولوی ہو؛ جس کو دینی اعتبار سے، دنیوی اعتبار سے کوئی بھی زیادت ملی ہے، ذمہ داری ملی ہے تو اس کا یہ مقصد فریضہ ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو آگے تک پہنچائے۔اور ابھی معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی یہاں ٹریننگ چل رہی ہے، یہاں یہ سکھایا جائے گا کہ آپ کو اپنا فریضہ کس طرح ادا کرنا ہے، کیونکہ ہر کام کو کرنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے، اگر اس طریقے سے اور اس سلیقے سے کام کیا جائے اس کا نفع پورے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے تدریب المعلمین (Teachers Training) کا بھی ایک کورس کرایا جاتا ہے۔ عصری درسگاہوں میں بی ایڈ اور ایٹ کا باقاعدہ کورس کرایا جاتا ہے کہ بچوں کو پڑھانے کے لیے کیا اندر سنجیدہ لیا جائے۔ ہمارے مدارس میں عموماً اس کا طریقہ نہیں ہے، لیکن بڑے اداروں میں تدریب المعلمین کا کورس کرایا جا رہا ہے، جمیت کی تنظیم ہے، رفاہی کام کرنے والی، جس کا بنیادی کام دینی سربراہی ہے، تو اللہ کا فضل ہے، ہمارے اس جو محترم حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب حفظہ اللہ تعالی ہیں، بہت زیادہ متحرک ہیں اور ان کے دور وزارت اور صدارت کے اندر دین کی خدمت کا ہر اعتبار سے کام بڑھ رہا ہے، دینی تعلیمی بورڈ ہے، اسی طرح اور جو رفاہی کام اس سب کے اندر اضافہ ہو رہا ہے۔انہی کی ٹریننگ کا سلسلہ ہے، یہ ایک بہت بڑی اہمیت کا حامل عمل ہے۔ جتنے لوگ اس میں شرائط ہیں، وہ یہ سمجھیں کہ کس طرح ہم نے تعلیم کے سلسلے میں آٹھ سال، نو سال، دس سال خرچ کیا ہے، اب اس کو اس امانت کو امت تک پہنچانے کے لیے ہمیں سیکھنا ہے۔ ہر فن میں یہ بات ہوتی ہے، ایک آدمی ڈاکٹری پڑھتا ہے، تو اس کو پریکٹیکل ٹریننگ کرنی پڑتی ہے، آئی ٹی کے اندر بھی پریکٹیکل کرنا پڑتا ہے، کوئی سی اے کا کورس کرتا ہے، اکاؤنٹنٹ بنتا ہے، تو اس کو بھی پریکٹیکل، اس کی ٹریننگ لینی پڑتی ہے؛ تو اس دین کی امانت کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے، اگر امام ہے تو اپنی مقتدیوں کے لیے، کسی مدرسے کا استاد ہے تو طلبہ کے لیے، جس مدرسے میں، جس مقام پہ کام کرتے ہو وہاں کا طرح ان مسلمانوں کے لیے جو ہماری ذمہ داری ہے، اس کو کیسے ہم انجام دیں گے؟ تو پہلے ذمہ داریوں کو سمجھنا اور پھر اس کے بعد ان کو انجام دینے کی کوشش کرنا۔اسی طرح گھر کے افراد اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلائیں، کم از کم قرآن پاک پڑھائیں، اردو زبان پڑھائیں، مسنون دعائیں سکھائیں، بچہ یہ جانے کہ ہم مسلمان ہیں، صرف خاندانی اعتبار سے نہیں بلکہ جان کر مسلمان ہیں۔ اسلام اس کی تشریح کیجیے، مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کا جو رسالہ ہے "تعلیمِ اسلام”، اس کو اٹھا کے دیکھیے، سب سے پہلا سوال کیا ہے؟ سوال: "تم کون ہو؟” (یعنی مذہب کے اعتبار سے تمہارا کیا نام ہے؟)۔ جواب: "مسلمان ہوں، میرا مذہب اسلام ہے”۔ سوال: "اسلام کیا سکھاتا ہے؟” پھر اس کی تعلیم کیا ہے۔بالکل سادی تختی کے اوپر جو پہلی تحریر لکھی جا رہی ہوتی ہے، تو یہ صرف طالب علم اسلام پڑھنے والوں اور پڑھانے والوں کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کو، ہر ہر فرد پر ذمہ داری ہے کہ جہاں اپنے بچے کے کھانے، پینے، رہنے، سہنے، دوا، علاج لباس کسی کا کٹتا ہے، ایک مسلمان باپ ہونے کی حیثیت سے اس کی دینی تعلیم، دین کی تربیت کا اس سے زیادہ خیال رکھے۔تو یہ اس وقت میں دونوں حضرات سے، جو ہمارے اپنے گھروں کے ذمہ دار ہیں، جو اسکول اور مدرسے کے ذمہ دار ہیں، ان سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں اور جو نئے فضلاء ہمارے اس کام میں لگے ہیں، ان سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس کی اہمیت کو سمجھیں، اور جس تیزی کے ساتھ الحاد اور بے دینیت کا طوفان چلا آ رہا ہے، پہلے تو خطرات نیچے معاشی اعتبار سے تھے، جان مال کا خطرہ تھا، اب ایمان کا ڈاکہ پڑ رہا ہے، ایمان کا نقصان ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے اس کا تحفظ ہمیں خود کرنا ہے۔اللہ تعالی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس عطا فرمائے، اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اللہم صلی علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم، اللہم ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم، ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، وصلی اللہ علی النبی الکریم.”
آڈیو کمپوز ر=محمد یاسین جہازی






















